Urdu kids story-Chamka

Urdu kids story-Chamka

چمکا
چمکا ایک نہایت ہی غریب شخص تھا جو محنت مزدوری کے سلسلے میں اپنے گھر سے نکلتاتھا ۔اسے ایک گاؤں میں کسی لالچی شخص کے پاس اس کے مویشیوں کو چارہ ڈالنے اور گھر کے کام کاج کرنے کے لیے بارہ سو روپے ماہوار کا موقع  ملا۔چمکا نہایت ہی محنتی شخص تھا  وہ سارا دن لالچی آدمی کے گھر کے کام کاج کرتا اور اس کے مویشیوں کو چارہ ڈالتاتھا۔اسی طرح چمکے کو ایک سال گزر چکا تھا اور اسی ملازمت کے دوران چمکا اپنے گھر متعدد بار بھی آچکا تھا ایک روز جب چمکا کام کاج میں مصروف تھا پسینے میں شرابور وہ سستانے کے لیے ایک درخت کے سائے میں بیٹھا  اور اپنا پسینہ صاف کرنے لگا ۔اسے بھوک بھی شدید لگ رہی تھی ۔اچانک ایک راہ گیر کا گزر ہوا جو ہر رو ز چمکے کو محنت سے کام کرتے ہوئے دیکھتاتھا اس شخص کے دل میں فطور آگیا اور چمکے کے ساتھ بیٹھ کر میٹھی میٹھی باتیں کرنے لگا ۔
راہ گیر نے چمکے سے اس کی ماہانہ تنخواہ کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ آپ اتنے کمزور کیوں ہو لگتاہےآپ کا مالک آپکو کھانا کم دیتا ہے
چمکا کام کی تھکاوٹ اور مارے بھوک کے کہنے لگا کہ تنخواہ مناسب ہے بارہ سو ماہانہ ہے الحمد اللہ گھرکا نظام چل رہا ہےاورکھانا صبح اور شام کو کھاتا ہوں ۔
یہ بات سنتےہی راہ گیرنے کہا کہ توبہ کھانا صبح اور پھر شام کو ظلم نہیں تو اور کیا ہے ۔
اور ساتھ ہی کہاکہ آپ بہت محنتی ہو اور آپ کی محنت کا اجر آپ کو پورا نہیں مل رہا آ پ میرے پاس آ جاؤ اور میرے ملازم بن جاؤ۔تنخواہ تو میں بھی آپ کو بارہ سو ہی دوں گا لیکن کھانا چٹکی سے کہا کہ صبح شام صبح شام  چمکا لالچ میں آگیا اور سوچا کہ یہاں تو کھاناصبح اور پھر شام کو ملتاہے اگر میں اس شخص کے پاس چلا جاؤں تو کھا نا صبح شام میرے لیے بہتر رہے گا۔
چمکا لالچ میں آکر اپنے مالک کو چھوڑ کر اس آدمی کے ساتھ چل دیا اور جا کر وہاں کام کرنے لگا یہاں بھی اسے کھانا صبح اور شام کو دیا جاتا تھا ۔دو ماہ گزر جانے کے بعد اچانک چمکے کی ملاقات اس کے ایک پرانے دوست سے ہوتی ہے ۔دوست نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں آئے ہو کیا وہاں پر آپ کی تنخواہ کم تھی چمکے نے کہا تنخواہ تو برابر ہی ہے لیکن وہاں کھانا صبح اور پھر شام کو ملتاتھا دوست نے پوچھا ادھر کھا نا کیسے ملتا ہے ۔چمکے نے چٹکی بجا کر کہا یہاں روٹی صبح شام صبح شام
دوست نے حیران ہو کر کہا کہ کیا فرق ہے وہاں بھی صبح شام اور یہاں بھی صبح شام کھانا کھاتے ہو سمجھاؤ نا زرا  مجھے بھی  ۔جس پر چمکا بھی سوچنے لگا اورپھر بولا ہاں دوست بات تو آپ نے ٹھیک کہی ہے ۔دراصل میرے اس نئے مالک نے جوچٹکی  بجا کر کہا کہ صبح شام صبح شام  میں تو چٹکی پہ بھول گیا ۔
پیارے بچو !
انسان اپنے کام سے ہمیشہ خوش نہیں ہوتا ہمیشہ انسان لالچ ہی میں آکر دھوکہ کھا تا ہے 
کہتے ہیں نا لالچ بری بلا ہے۔

Post a Comment

0 Comments